آخرت کی فکرکرنا خوش قسمتی ہے

آخرت کی فکرکرنا خوش قسمتی ہے


آخرت کی فکرکرنا خوش قسمتی ہے


خوش قسمت ہے ہر وہ انسان جس کے ساتھی بہن کی شکل میں، بیوی کی شکل

میں، ماں کی شکل میں، بیٹی کی شکل میں، دوستوں کی شکل میں، اولاد کی شکل

میں، مخلصین کی شکل میں، الغرض کسی بھی صورت میں ساتھی موجود ہوں اوریہ

احساس بھی ہے کہ میں نے جانا ہے۔ اوراس احساس میں شدت بھی ہے،(تو ایسا

احساس کسی کسی خوش نصیب کو ہی ہوتا ہے) یہ احساس ہر کسی کے نصیب میں

نہیں ہوتا ساری کائنات میں ﷲ کو نہ ماننے والے بہت ملیں گے۔ ہمارے پیارے آقا

حضورسرورکونین کو نہ ماننے والےبھی بہت ملیں گے۔ لیکن موت کو نہ

ماننے والا کوئی نہیں ملے گا۔ کیونکہ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ماننا

سب کی مجبوری ہے، جس کا ماننا لازم ہے موت ہماری زندگی کی ضروت ہے،اب یہ

کیسےزندگی کی ضروت ہے؟  موت میں تو بندہ زندگی کی بازی ہارجاتا ہے۔ موت

زندگی کے لیےاس ضروت ہے کہ اگر موت نہ ہوتی تویہاں بہت زیادہ انسان ہوتے

بوڑے بوڑے انسان بھی ، اورکہیں پرجگہ ہی نہ ملتی۔ تواس لیے موت زندگی دیتی

ہے۔ موت دوسرے آنے والوں کا راستہ بناتی ہے۔ یہ ﷲ کا نظام ہے ہمارا ﷲ اپنے

تمام نظام پرقادر بھی ہےاورمقتدر بھی۔


سو(100) مرتبہ کلمہ طیب

آخرت کی فکرکرنا خوش قسمتی ہے
سو(100) مرتبہ کلمہ طیب

ہمیں اپنی حقیقی زندگی کی خوشحالی کے لیے صبح وشام سو(100) مرتبہ کلمہ طیب

پڑھنا ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے