بیٹی کا باپ خدا کرے غریب نہ ہو

 بیٹی کا باپ خدا کرے غریب نہ ہو

بیٹی کا باپ خدا کرے غریب نہ ہو


بیٹی پیدا ہوتے ہی ترقی اور رزق کے دروازے کھل گئے، ہمارے معاشرے کی یہ ستم ظریفی ہے کہ جب کسی گھرمیں بیٹی پیدا ہوتی ہے تواکثر لوگ شرم محسوس کرتے ہیں، اور شرم کے مارے ایک دوسرے  کو مبارک باد تک نہیں دیتے۔ سب کے سب ایک دوسرے سے آنکھیں چراتے ہیں۔ جس کا سارا گناہ  اور قصور بہو کےکھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، بلکہ یہاں تک بھی پڑھنے سننےاور دیکھنے میں آیا ہے کہ بہو کو گھرسے نکال دیا جاتا ہے نوبت دوسری شادی یا پھر۔۔۔۔۔۔طلاق تک آ جاتی ہےاور یوں گھروں میں لڑائی فساد برپا شروع ہو جاتے ہیں۔ بعض جگہوں پرتو خود شوہرحضرات اورسسرال والوں کی طرف سے مختلف  طریقوں سے ظلم کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک روایت میں آتا ہے کہ جب اللہ پاک کسی گھر پراپنی نظرکرم فرماتا ہے تو اس گھر میں بیٹی بھیج دیتا ہے اورفرماتا ہے جا تواس گھرمیں جا، میں خود تیرے پاپ کی معاونت کروں گا۔(سبحان اللہ) میرے پیارے عزیزم ذرا ایک منٹ کے لیے سوچ کرفیصلہ کریں۔ جس باپ کی معاونت میرا رب کر رہا ہے۔ اس سےہمیں یہ پتہ چلتا ہےکہ گھر میں بیٹی کا آنا کتنا با برکت اور با سعادت ہوتا ہے۔ میری اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہم سب کی بیٹیاں سدا آباد اور ہمیشہ خوش و خرم رہیں،آمین۔آمین۔آمین 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے